لف بردار

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - خم دار، کوہان نما، بل دار (پہاڑ)۔ "لف بردار، لفی . بل دار وٹّاں والے پہاڑ۔"      ( ١٩٦٤ء، رفیق طبعی جغرافیہ، ٢٠٨ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'لف' کے بعد فارسی مصدر 'برداشتن' سے صیغۂ امر 'بردار' بطور لاحقۂ فاعلی لگانے سے مرکب بنا۔ اردو زبان میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٦٤ء کو "رفیق طبعی جغرافیہ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خم دار، کوہان نما، بل دار (پہاڑ)۔ "لف بردار، لفی . بل دار وٹّاں والے پہاڑ۔"      ( ١٩٦٤ء، رفیق طبعی جغرافیہ، ٢٠٨ )